ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کیا بھٹکل بلدیہ میں ٹیکس کی ادائیگی کا کوئی حساب کتاب نہیں؟ لوگوں کو تین تین اور چار چار سال کا ٹیکس دوبارہ بھرنے کے لئے کہا گیا؛ عوام پریشان

کیا بھٹکل بلدیہ میں ٹیکس کی ادائیگی کا کوئی حساب کتاب نہیں؟ لوگوں کو تین تین اور چار چار سال کا ٹیکس دوبارہ بھرنے کے لئے کہا گیا؛ عوام پریشان

Mon, 06 Mar 2017 20:37:06    S.O. News Service

بھٹکل :6/مارچ    (ایس او نیوز) حکومتیں ہمیشہ ٹیکس وصولی کے پیچھے پڑی رہتی ہیں تو بھٹکل بلدیہ میں عوام کے ٹیکس کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں ہے۔ گذشتہ 3-4سالوں سے عوام کی طرف سے بلدیہ کو اداکردہ ٹیکس کی رقم میونسپالٹی  بک میں درج  کئے بغیر ہی  وصول کئے جانے کا پتہ چلا ہے۔

عوام اپنے ٹیکس کی ادائیگی کے سلسلے میں کسی اشکال کے متعلق جانکاری حاصل کرنے بلدیہ دفتر پہنچتے ہیں تو بلدیہ کا عملہ حیرت سےمنہ تکتا رہتاہے۔ بھٹکل میں کتنے لوگ  ٹیکس اداکرتے ہیں؟ ابھی تک کتنے لوگ ٹیکس ادا کئے ہیں؟ کتنے لوگوں کا بقیہ جات ہے ؟ ایسے ضروری سوالات کاجواب بلدیہ کے پاس شاید ہی ملے ، کیونکہ اُن کے رجسٹرڈ بُک میں کوئی حساب ہی نہیں ہے تو کہاں سے جواب ملے گا ؟

 اپنا ٹیکس ادا کرنے بلدیہ دفتر پہنچنے والوں کو بلدیہ عملہ ، بلدیہ کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے سخت ترش رویہ اپناکربے رخی سے بات کرتے ہیں۔ کسی کو کہا جاتا ہے کہ  تمہارا چارسال کا ٹیکس باقی ہے، تو کسی کو تین سال کا ٹیکس باقی ہونے کی بات کہی جاتی ہے۔ عوام جب  کہتے ہیں کہ وہ گذشتہ سال تک پورا ٹیکس بھر چکے ہیں اور اُن کا کوئی بقایا جات نہیں ہے  تو پھر بلدیہ عملہ آنکھیں چار کرتے ہوئے کہتاہے کہ اگر  ایسا ہے ، تو جاؤ رسید لے کر آؤ۔

بے چار ے عوام گھروں میں کہیں الماری میں پڑی ہوئی رسید ادھر ادھر ڈھونڈ کر عملے کے سامنے پیش کرتے ہیں تو عملے کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ  جاتی ہیں۔ بھٹکل میں ایک  کے بعد ایک ایسے معاملات کا پتہ چل رہاہے ، ایسے معاملات میں معصوم عوام کا لٹ جانا یقینی ہے، کیونکہ بے چاروں کے پاس اگر رسید محفوظ نہیں رہی تو پھر بلدیہ عملے کی چاندی ہی چاندی۔ اور کچھ بہت ہی شریف لوگ جنہیں رسید نہیں ملتی وہ دوگنا تگنا ٹیکس جرمانے کے ساتھ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔  یہ الگ بات ہے کہ وہ رقم بعد میں حکومت کے کھاتے میں جائے گی  یا پھر عملے کے پیٹ میں ؟

بھٹکل کے اکثر عوام گلف میں رہتے ہیں، گھروں میں خواتین رہتی ہیں، ایسے میں اگر اُن سے کہا جاتا ہے کہ آپ کا چار سال کا اور تین سال کا ٹیکس باقی ہے اور ابھی آپ کو جرمانے کے ساتھ ٹیکس بھرنا ہے تو بیچاری گھریلوں عورتیں  بلدیہ عملے کی باتوں میں آکر تین تین اور چار چار سالوں کا ٹیکس جرمانے کے ساتھ بھردیتی ہیں۔ البتہ کچھ لوگ گھروں میں جاکر ٹیکس کی رسید تلاش کرتے ہوئے واپس میونسپالٹی پہنچتے ہیں تو  آفسران کو رسید دکھاتے ہیں تو اُن سے کہا جاتا ہے کہ رجسٹرڈ بُک میں آپ کے ٹیکس کا اندراج  نہیں ہوا ہے، اس لئے تھوڑی گڑبڑی ہوئی ہے۔

اس تعلق سے جب ساحل آن لائن نے بھٹکل بلدیہ کے ٹیکس کے حساب کتاب کے متعلق افسران سے سوال کیا تو  جواب دیا گیا کہ یہاں عملہ کی قلت ہے، اس لئے ٹیکس کا اندراج رجسٹریشن بُک میں نہیں ہوا ہے، یہاں کے ایک ٹیکس آفسر نے بتایا کہ وہ صرف تین ماہ قبل ہی بھٹکل میونسپالٹی میں جوائنٹ ہوئے ہیں، اس لئے انہیں اس بات کا پتہ نہیں ہے کہ رجسٹر ڈ بُک میں ٹیکس کا اندراج کیوں نہیں ہوا۔ خبر ملی ہے کہ گھروں کے ٹیکس کی طرح پینےکے پانی کا حساب کتاب بھی اسی نہج پرچل رہا ہے 

 اس سلسلے میں بلدیہ کے صدر محمد صادق مٹا نےبتایا کہ ٹیکس رقم کودرج کرنےمیں تفریق ہونےکا جیسے ہی مجھے پتہ چلا میں نے افسران سے کہا کہ وہ فوری اقدامات کریں۔ ا؟صادق مٹا کے مطابق داکردہ ٹیکس کی معلومات رجسٹرڈ بُک میں درج کرنے کا کام جاری ہے، انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی طرف سے ٹیکس ادا کرنے کے بعد ٹیکس کی رسید کو سنبھال کر رکھیں  اور گھروں کا ٹیکس پہلے بھراجاچکا ہے تو دوبارہ  ٹیکس نہ بھریں۔


Share: